Loading ...
Sorry, an error occurred while loading the content.

Fw: [political_analysts] Prof Waris Mir's art icle - ...علامہ مشرقی نے کہا

Expand Messages
  • Naveed
    ... ہیں “ ... طاقتوں کی سیاسی غلامی سے نجات حاصل کر چکی ہے۔لیکن بیسویں صدی کے ایک نئے عفریت
    Message 1 of 4 , Sep 1, 2011
    • 0 Attachment



       
       
      علامہ مشرقی ؒنے کہا
      ”قومیں آہستہ آہستہ مرتی ہیں “
      ٭تحریر : پروفیسر وارث میر٭
      آج مسلمان ملکوں کی اکثریت استعماری طاقتوں کی سیاسی غلامی سے نجات حاصل کر چکی ہے۔لیکن بیسویں صدی کے ایک نئے عفریت نیم نوآبادیاتی نظام۔۔۔نیو کلیئر ازم کے پنجے میں پھنس چکی ہے۔دنیا کی دونوں بڑی طاقتیں اور ان طاقتوں کے ایجنٹ مسلمان ملکوں کے ذرائع وسائل معاش کو اپنے قابو میں رکھنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی ان کی یہ کوشش بھی رہتی ہے کہ ملکوں کی سیاسی دانش خواب آور اور مسکن حکمتوں سے نیم بے ہوشی کی حالت میں رہے مبادا ان کی قومی انا اور شعور کی آنکھ کھل جائے۔اللہ کا شکر ہے کہ اہل اسلام اوران کے سوچنے سمجھنے والے افراد کی ذہنی مایوسی اور شکست کی کیفیت اب وہ نہیں ہے جس کا نقشہ حضرت علامہ مشرقی ؒنے آج سے قریباً نصف صدی پیشتر کھینچا تھا آج کا ایک عام اور نیم خواندہ مسلمان بھی استعماری طاقتوں کے ہتھ کنڈوں سے آ گاہ ہے۔وہ جانتا ہے کہ بساط سیاست پر کس مہرے کو کون سا مہرہ کس کے ہاتھوں شکست دے گا۔ان کے موجودہ مصائب وآلام کا ذمہ دار کون ہے؟ ان پر حکومت کرنے والے لوگ کون ہیں؟ ان کی پالیسیوں کا بین الاقوامی سیاسی کشمکش میں کیا کردار ہے؟ ان کا عرصہ حکومت کیا ہے اور اس عرصہ حکومت کے طول یا اختصار کی وجوہ کیا ہیں؟ مقامی طور پر کون کون سے مفادات کہاں کہاں کس کس کے ساتھ اشتراک کر رہے ہیں؟نعروں کے پیچھے حقائق کیا ہیں؟ اور ان حقائق کی نقاب کشائی کب اورکیونکر ہوگی؟ بلاشبہ آج بھی اقتصادی،ثقافتی،تعلیمی سیاسی دباﺅکی مختلف صورتوں کا مسلمانوں کو سامنا ہے اور اس دباﺅ سے نکل جانے کی ہمت اور حوصلہ بھی ان میں موجود ہے،البتہ اس کے لئے جن طریقوں اور وسیلوں کی ضرورت ہے۔ان کی فراہمی میں ابھی وقت لگے گا استعمار سے نجات پانے کے جدید سیاسی طریقوں سے ہمارے ماضی کے اکثر بزرگ آگاہ نہیں تھے اور اگر کوئی صاحب دل ودماغ رہنما ان طریقوں کو استعمال کرنے کا مشورہ دیتا تھا تو انگریز سے نفرت کو جزوایمان تصور کرنے والے حلقے ایسے رہنماﺅں پر کفر کے فتوے لگا دیتے تھے۔”انگریز شناسی“ کے ذریعے آزادی کی جنگ جیتنے کی راہ ہموار ہوئی تو ان مجاہدین کا تمسخر بھی اڑا یا جانے لگا۔جو جدید وسائل جنگ سے آ گاہ نہیں تھے۔لیکن ان کا جذبہ وسائل سے بھی زیادہ مقدس تھا جنگ آزادی کے ایک بہت بڑے مجاہد شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے جزیرہ مالٹا میں ناقابل بیان مصائب وشدائد برداشت کئے۔انہےں ایک تہہ خانے میں اوندھے منہ لٹا کر،کمر گرم گرم سلاخوں سے داغی جاتی اور ان سے مطالبہ کیا جاتا کہ آزادی ہند کی جدوجہد ترک کر دو آپ ظلم سہتے رہے لیکن ان کی ثابت قدمی میں کوئی فرق نہ آیا۔ رہائی کے بعد بھی مالٹا میں ایام اسیری کے تشدد کے اثرات ان کے جسم پر باقی رہے۔فوت ہوئے آپ کی میت غسل کے لئے تختے پر لٹائی گئی تو دیکھنے والوں نے دیکھا کہ ہڈیوں پر گوشت نام کونہ تھا۔یہ مشتے نمونہ ازخروارے ہے مسلمانوں میں کئی اکابر پیدا ہوئے جنہوں نے غلامی کی زندگی بسرکرنے سے بغاوت کی اور انگریز کی جیلوں میں زندگی کا بیشتر حصہ گزار دیا۔یہ باغی روحیں تھیں۔عمر بھر استعمار کے ساتھ پنجہ آزما رہیں لیکن ان کی سیاسی کا میابیوں اورناکامیوں کا حالات اور مقدر کے علاوہ ان کے مزاج واطوار پر بھی انحصار رہا اور ہمارا رویہ بھی یہ رہا کہ ان شخصیتوں میں سے اگر کسی نے کوئی دوسرا سیاسی راستہ یا موقف اختیار کر لیا تو ہم نے اپنی نفرت اور ناپسندیدگی کے نیزوں پر اس کے آباﺅ اجداد کو بھی اٹھا لیا۔دیوبندکی کسی ایک یا چند شخصیتوں نے ایک خاص وقت میں سیاسی کم نگہی کا ثبوت دیتے ہوئے کسی مختلف سیاسی موقف کا اظہار کر دیا تو ہم دیوبند کے حسین احمد مدنی کے ساتھ ساتھ مولانا محمود الحسن کے بارے میں بھی کلمہ خیر کہنا نامناسب خیال کرنے لگے۔ابوالکلام آزاد کانگرسی سیاست کے سحر سے نجات حاصل نہ کر سکے اور یہ بھی تسلیم کہ وہ اپنی مخصوص سیاسی وابستگیوںا ور وفاداریوں کی بنا پر برصغیر کے مسلمانوں کی وہ خدمت سرانجام نہ دے سکے جس کی توقع شروع شروع میںان کی ذات سے مسلمانوں کو تھی۔لیکن کیا یہ نہایت ضروری ہے کہ کانگرس کا ساتھ دینے کے جرم میں،ہم ان کے علم وفضل کا ذکر کرتے ہوئے جھینپیں اور ان کی قربانیوں قیدوبند کے بارے میں لکھتے ہوئے شرمائیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ تاریخ کسی قوم کو معاف نہیں کرتی۔لیکن پاکستانی قوم ہے کہ تاریخ کو معاف نہیں کرتی۔اپنے قومی مشاہیر کو معاف نہیں کرتی۔ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف نہیں کرتی معاف کرنا،درگذر کرنا،دوسروں کو بھی برداشت کرنا اختلاف کرنے والوں کو زندہ رہنے کا حق دینا۔۔۔یہ سب اعلیٰ ظرفی کی خصوصیات ہیں یہ خصوصیات فرد میں ہوں تو وہ بڑا انسان ہوتا ہے،قوم میں ہوں تو وہ بڑی قوم ہوتی ہے۔
      ہمارے بعض رہنماﺅں نے آزادی کی لڑائی میں بھر پورحصہ لےا۔لےکن انہےں مسلم لےگ کی سےاست سے اختلاف رہا اور اس کی پالیسیوں سے ان کا براہ راست تصادم بھی رہا اور ہم ان رہنماﺅں کی سیاسی غلطیوں کو آج بھی معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور ان کی قومی خدمات کا اعتراف کرنے میں ہمیشہ بخل سے کام لیتے ہیں اس قسم کی ایک شخصیت علامہ عنایت اللہ مشرقی ؒکی بھی تھی وہ ایک اعلیٰ درجے کے ریاضی دان اور عالم قرآن تھے یورپ میں اس عہد کی نیم سیاسی،نیم عسکری تحریکوں۔۔۔کی کامیابی مےں ہی ممکن ہے انہیں اس تجربے کو ہندوستان میں دہرانے پر آمادہ کیا ہو۔ انہوں نے خاکسار تحریک کو عسکری بنیادوں پرمنظم کیا اور” چپ وراست “کی دھمک سے انگریزحکومت کو ہلا دیا۔علامہ صاحب آئیڈیالسٹ تھے جذباتی تھے،غصیلے بھی تھے،اپنے علم وفضل کا احساس بھی تھا اور اس وقت کے بعض دوسرے علمائے اسلامی کی طرح مغرب زدہ جناح کی قیادت کو تسلیم کرنے کی بجائے اپنی قیادت ہی کو آگے بڑھانے کی کوشش بھی کرتے رہے۔مسلم لیگ کامیاب ہو گئی خاکسار تحریک ناکام ہو گئی اور سیاست میں ناکامی سیاسی لیڈر کی کمزوریوں کو تو تاریخ کے صفحات پر ثبت کر دیتی ہے جبکہ خوبیوں کو محو کر دیتی ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ مشرقی ؒکی شخصیت کا ابھی تک کسی نے غیر جانبداری سے تجزیہ کیا ہی نہیں۔علامہ مشرقی ؒ ایک حساب دان اور سائنس دان تھے اور سیاسی تخمینوں میں بھی ایک سائنس دان کے ذہن اور تجزیاتی انداز کو استعمال کرتے تھے عصری سیاست میں ان کے اکثر تخمینے نا کام رہے جبکہ وفات کے بعد ان کے بہت سے تخمینوں کی صداقت بھی واضح ہوئی ۔
      بیسویں صدی کے دوسرے اور تیسرے حصے میں،مسلمانوں کی خانہ ویرانیوں کا نوحہ انہوں نے ضرور لکھا۔لیکن ساتھ ہی مسلمانوں کے روشن مستقبل اور غلبہ اسلام کی پیش گوئی بھی کی۔ان کی نوحہ گری کی غرض محض جذبات غم کی تسکین نہیں ہوتی تھی۔وہ اس فن کے ذریعے مسلمانوں میں آزادی اور عظمت حاصل کرنے کاعزم اورحوصلہ پیدا کرتے تھے۔مثلًاعلامہ صاحب” تذکرہ “میں یوں رقم طراز ہوتے ہیں ۔
      ”پس اگر آج تیرہ سو سال کے بعد اسلام کا لہلہاتا ہوا چمن مایوسی اور شکست کا ماتم سرا بن گیا ہے،اگر آج اس کی پرورش بربادی کے سپرد اور اس کا ہر گوشہ خرابی کا امین بن چکا ہے۔اگر اس کی بد طالعی اور خانہ ویرانی افسانے دشمن کے شکر خند قہقہے بن رہے ہیں۔اگر اس کی بے آبروئی اور فاقہ مستی کا ماجرا شرمندہ بیان اور روکش تشہیر نہیں رہا اگر آج اس کی ذلت اور مسکنت کی چوٹ جگروں کو فگار اور سینوں کو پاش پاش نہیں کرتی۔اگر بے حسی کے موت آفریں زہرنے آج اس کے ہر فرد کو بے پروائے سعی اور بے گانہ عمل کر دیا ہے اگر افلاس کی غیرت اور بے حرمتی کی آن آج اس کو محنت کش چارہ گر ہونے نہیں دیتی۔اگر اس کی نعش جاں سپار پر آج ایک سچا ماتمی اور نوحہ گرموجود نہیں، نہیں،نہیں اگر اس کے عزاداروں کی آسماں رس فغاں اس کے یخت خوابیدہ کو جگا نہیں سکتی اگر اس کے یتیموں کے دلفگار آنسو اور بھک منگوں کی جاں گداز آہیں فرش زمین میں شگاف اور سقف آسمان میں سوراخ نہیں کرتیں اگر اسکے پس ماند گان کی محشر انگیز سینہ کو بیاں اللہ میاں کے عرش کو متزلزل نہیں کرتیں اگر خدائے پاک کی غیرت اور شان عفو زمین پاش سجدوں اور فلک شگاف دعاﺅں کے باوجود جو ش زن اور متحرک نہیں ہوتی۔اگر محبوب خدا اور حبیب ملت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت بھی امت کے حق میں کارگر ہوتی نظر نہیں آتی،نہیںالعےاذ باللہ نہیں اگر خود امت اپنی مجرمانہ غفلت اور ظالمانہ طریق عمل،عداوت رسول اور عصیان خدا کے باعث رحم کی قطعی غیر مستحق اور شفاعت کی یقینا نااہل ہو گئی ہے اور آسمانی اور زمینی بلائیں،آج ہر طرف سے اس کے اجڑے ہوئے جھونپڑوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ویران کر رہی ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ مسلمان قرآن کے مقاصد سے قطعاً ناآشنا ہو گئے ہیں اور ایمان اور اعمال صالحہ کے اصلی مفہوم سے کوسوں دور جا پڑے ہیں۔
      مجرمانہ ظاہر پرستیوں کی بدولت مسلمانوں پر طاری ہونے والی ذلتوں اور مسکنتوں کا اس زور دارانداز میں ذکر کرنے کے بعد علامہ مشرقی ؒامیدوں امنگوں ولولوں روشنیوں کا پیغام بھی دیتے ہیں فرماتے ہیں۔(ترجمہ) اور توقانون خدا میں کوئی ردو بدل ہرگز نہیں پائے گا۔اس قطعی استدلال کی بنا پر علامہ مشرقی ؒتذکرہ میں اپنے اس ایمان کا اعلان کرتے ہیں کہ ”قانون فطرت کی کوئی مضر حقیقت اسلام کوفنا نہیں کر سکتی۔مسلمانان عالم کا روئے زمین پر بالآخر بطور ایک غالب عنصر کے رہنا لاا بدی ہے۔اور جب تک زمین وآسمان اور کل کائنات موجود ہے یہ صورت قائم ہو کر رہے گی اگر موج حوادث کے تلاطم اور واقعات کی لشکر انگیزی نے بظاہر اس کلئیے سے انحراف پیدا کر دیا ہے تو وہ استسنائی اور عارضی ہے،اس کی حقیقت سوا اس کے نہیں کہ مخالف اثرات کے دباﺅ نے ایک غیر مانوس صورت نمایاں کر دی ہے جو ہٹ کر رہے گی ۔۔۔“
      اور آج رفتار عالم نظر پر نظر رکھنے والا ہر فہمیدہ شخص جانتا ہے کہ مستقبل میں مسلمانوں اور مسلمانوں کے روشن خیال عزائم کا کردار ایشیا،افریقہ،یورپ کے گلی کوچوں ہی میں نہیں علم وتحقیق اور دانش وفہم کے اداروں میں بھی موضوع سخن ہے اور وہ دن دور نہیں جب مسلمان ممالک دوسروں کے سیاسی اور عالمی مفادات کی تکمیل کا ذریعہ بننے کی بجائے خود اللہ کے پیغام مساوات وعدل کی اشاعت کا ذریعہ اور انسانیت کے دکھوں کا مداوا بنیں گے۔
      علامہ مشرقی ؒصاحب کی سیاسی CALCULATION میں سانحہ مشرقی پاکستان خاص طور پر نمایاں ہے اور قیام پاکستان کے چند سال بعد ہی آپ نے اس کی علیحدگی کے عمل کی تکمیل کے لئے جس مدت کا تعین کیا تھا وہ حیران کن حد تک درست نکلی ان کے حسابی تجزیوں کا سیاستدان عام طور پر مذاق اڑاتے تھے۔لیکن ان کی لاہور میں مئی ۱۹۵۰ءکی ایک تقریر ملاحظہ فرمائیں۔پاکستان کے دو ٹکڑے جو چودہ سو میل دور ہیں اور مشرقی پاکستان کے متعلق ہندوستان کے کمانڈر انچےف نے ابھی ابھی اظہار کیا ہے کہ اس کو زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ کے اندر حیدر آباد کی طرح لیا جا سکتاہے الغرض یہ مشرقی پاکستان کا وجود تاش کے پتوں سے بنائے ہوئے گھر وندے سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا اور جب کبھی ادنیٰ تصادم ہو ایہ عمارت دھڑام سے زمین پر آ گرے گی اور اخباری پروپیگنڈہ صرف اتنا ہو گاکہ چلو ےہ قصہ بھی ختم ہوا۔اب پاکستان کا بڑا ٹکڑا رہ گےا ہے اور اس کی حفاظت پورے طور پر ہو سکے گی غور کیجئے۔یاد کیجئے ہمارے اخباری پروپیگنڈے کا مزاج اور اس کااستدلال یہی تھا یا کچھ ۱۹۴۸ءمیں کشمیر کی جنگ میں مسلم لیگ سے اختلاف کے باوجود علامہ مشرقی ؒصاحب نے بہ نفس نفیس حصہ لیا وہ مسئلہ کشمیر کو بھی بہت سے سیاستدانوں کے مقابلے میں بہت پہلے سمجھ چکے تھے اور اسکے مستقبل کی پیش گوئی بھی کر چکے تھے۔۲۴اکتوبر ۱۹۵۲ءکو راولپنڈی کے ایک جلسہ عام میں حکومت کو کشمیر کے بارے میں اپنے خدشات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ”ایک نیا خطرہ جس کے متعلق میں تم کو اس وقت آگاہ کرنا چاہتا ہوں اور ےوم کشمےر کے موقع پر ہی اسی راولپنڈی مےں جو آزاد کشمےر کی حکومت کی سرگرمےوں کا مرکز ہے ۔اس کا اعلان کرنا چاہتا ہےوں،وہ ےہ ہے ابھی چند روز ہوئے مجھے یقینی طور پر معلوم ہوا کہ اقوام متحدہ کا آئندہ قدم کچھ تھوڑی سی ٹال مٹول کی بعد یہ ہو گا۔کہ ہندو کو ناراض نہ کرنے کی خاطر کشمیر کے تمام مسئلے کو کھٹائی میں ڈال دے آہستہ آہستہ کچھ اور آئیں بائیں شائیں کر کے مسئلے کو اس مرحلے تک پہنچا دے کہ بھائی بہترین بات یہ ہے کہ چونکہ کشمیر کا مسئلہ بہت کچھ صاف ہو چکا ہے اور صرف چند باتیں اختلاف کی رہ گئی ہیں اس لئے پاکستان اورہندوستان دونوں کو کھلا چھوڑ دیا جائے کہ وہ باقی مسائل آپس میں بیٹھ کر خود طے کر لیں ۔
      مسلمانو!میں تمہیں نہایت وثوق سے تنبیہ کرتا ہوں کہ جس دن نامحسوس طور پر اور کامل بدنیتی سے اقوام متحدہ نے یہ خطرناک فیصلہ صادر کر دیا اور میں پھر کہتاہوں کہ یہ تمام بات اس ہوشیاری سے کی جائے گی کہ تمہیں محسوس بھی نہ ہو گی تو یقین جاﺅ کہ اسی دن قیامت کے دن تک کشمیر تمہارے ہاتھ سے نکل جائے گا تم اسی امیدوں کے بہشت میں بیٹھے ہوئے ہو گے کہ کیا ہے باقی باتیں جلد طے ہو جائیں گی۔میں تمہیں تیسری بار تنبیہ کرتا ہوں کہ جس طرح یہ ۵سال ٹال مٹول میں گذرے ہیں آئندہ تین چار ماہ میں اس مسئلے کو جہنم واصل کر کے کشمیر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دشمن کے سپرد کر دیا جائے گا اس کے بعد پھر دوسری بار تم کو کہتا ہوں کہ تمہیں محسوس کرائے بغیر نئی امیدوں کا بہشت تمہارے سامنے لا رکھا جائے گا۔
      آگے چل کر علامہ مشرقی ؒصاحب نے مغربی ملکوں کی سیاسی وسیسہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ”کئی اشخاص اس بات پر لگے ہوئے ہیں کہ پاکستان کی حکومت کو لڑائی کے ہولناک نتائج سے آگاہ کر کے ان کے حوصلوں کو پست کرتے رہیں۔گویا جب لڑائی کا خطرہ ہی نہ رہا تو ہندو کے لئے میدان کھلا رہ جائے گا بعینہ اس طرح جس طرح ایک بلی چوہے کو منہ میں لے کر پھر اس سے کھیلتی رہتی ہے ہندوستان کی حکومت پاکستان کے ساتھ اس وقت تک کھیلتی رہے گی کہ اس کا پورا کچومر نکل جائے۔۔۔“مسلمانوں میں تمہیں فرضی واقعات بتا کر اور پریشان نہیں کرنا چاہتا لیکن ایک بات ضرورواضح کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ دنیا میں آج تک فیصلہ نہیں ہو اکہ کسی قوم کی موت ٹھیک کس دن آئی۔وہ کون سا دن اور وقت تھا کہ اس نے اپنی ہلاکت کے سامان پید اکئے ہندو آہستہ آہستہ تمہیںوقت دیتا رہے گا۔تاکہ کشمیر کے متعلق تمہارے جذبات اور ماند پڑ جائیں وہ تمہیں امید یں دلا دلا کر سلانے کی کوشش کرے گا کہ آخری جذبہ کشمیر کی جنگ کے متعلق ماند پڑ جائے خود حکومت اس نیند میں مبتلا ہو گی اور کشمیر کے متعلق آئے دن کے کاغذی جھمیلوں کے باعث خواب میں مگن ہو گی کہ کسی نہ کسی دن تو یہ گتھی سلجھے گی۔۔۔مسلمانوں یہ قیامت بھی تمہیں کم محسوس ہو گی کیونکہ غافل قومیں بڑی دیر کے بعد محسوس کرتی ہیں اور قومیں جب مٹتی ہیں، اسی آہستگی سے مٹتی ہیں اور اسی آہستگی کے باعث کہا گےاہے کہ خدا کی لاٹھی میں آوازنہیں“۔
      ۱۹۵۷ءمیں پاکستان کی حکومت کی طرف سے کشمیر کا مسئلہ عملا سرد خانے میں ڈال دیا گیا تو علامہ مشرقی ؒنے پرامن لانگ مارچ کا پروگرام قوم کے سامنے پیش کیا بھارت کی سرحدوں کے نزدیک علامہ صاحب کے رضا کار خاکسارکئی ماہ تک ڈیرہ ڈالے رہے اور بالآخر انہیں جیل میں ڈال دیاگیا۔
      علامہ مشرقی ؒآج اس دنیا میں موجود نہیں ہیں البتہ ان کی سیاسی ناکامیوں کے ساتھ ساتھ ان کے سیاسی تخمینوں کا ذکر علمی حلقوں میں عام رہتا ہے۔ان کا ایک تخمینہ خالصتاً حسابی اور سائنسی تھا۔جس کا اعلان انہوں نے ۱۹۳۵ءمیں کیا تھا انہوں نے فرمایا میرے حساب کے مطابق لاہور کی شاہی مسجد کے علاوہ ہندوستان کی باقی مسجدوں کی سمت کعبہ غلط ہے اس پر مذہبی حلقوں میں شور اٹھا علامہ صاحب کا بیلچہ اس شوروغوغا کا مقابلہ نہ کر سکا اور آپ خاموش ہو گئے پھر ۱۹۶۰ءکا سال آتا ہے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلکیات نے حساب لگا کر اخبارات میں اعلان کیا کہ ۲۲جولائی ۱۹۶۰ءکو دن کے ٹھیک دو بجے سورج عین خانہ کعبہ پر چمک رہاہو گا۔پاکستان کے مسلمانوں کو چاہئے کہ ۲۲جولائی کو ٹھیک دو بجے رسی کے ساتھ لکڑی باندھ کر لٹکائیں جدھر سایہ پڑے گا۔وہی درست سمت کعبہ ہو گی شاہی مسجد کی سمت کعبہ اس فارمولا کے مطابق غلط نکلی لوگوں کو علامہ مشرقی ؒبڑی شدت سے یاد آئے جن کو یہی بات کہنے پر سب وشتم کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
      ہم سب جانتے ہیں کہ علامہ مشرقی ؒ صاحب نے اپنی مشہور کتاب ”تذکرہ“ دنیا کے اکثر سربراہان مملکت کو بھیجی تھی۔جن میںمےسولینی اور ہٹلر بھی شامل تھے۔کہا جاتاہے کہ ہٹلر نے علامہ صاحب کو جواب بھی دیا تھا علامہ صاحب کو فاشزم کا مبلغ بھی کہا گیا۔یہ کتنے افسوس کی بات ہے علامہ صاحب نے ایک غلام قوم کی بکھری ہوئی صلاحیتوں کو سمٹینے کے لئے اسے ڈسپلن کا سبق دینے کی کوشش کی اس سبق میں چونکہ آئیڈ یلزم کا عنصر زیادہ تھا لہٰذا یار لوگوں نے ان کے ڈسپلن کو فاشزم کا نام دے دیا۔علامہ مشرقی ؒصاحب نے اجتماعی ڈسپلن کے اصولوں کو خود اپنی ذات پر بھی نافذ کیا۔قیام پاکستان سے قبل لاہور میں خاکساروں کے اجتماع اور جلوس کا اعلان ہوا کیمپ لگا۔ادارہ علیہ کی طرف سے پروگرام ترتیب دیا گیا اپنی جذباتی طبیعت کے زیر اثر پروگرام سے ہٹ کر علامہ صاحب اچانک جلوس اپنی کمان میں لے کر نکل کھڑے ہوئے جبکہ جلوس کی قیادت کا حق سالار لاہور کو تھا حاجی صالح محمد صدیق راوی ہیں کہ جلوس بھاٹی دروازے کے باہر پہنچا تو سالار نے علامہ صاحب پر جماعت کے نظم وضبط کو توڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے عسکری عدالت بٹھا دی۔عسکری عدالت نے سرسری سماعت کے بعد علامہ صاحب کے لئے دس کوڑوں کی سزا سنا دی۔بھاٹی دروازے کے چوک میں جہاں چار جڑواں کھمبے نصب تھے۔علامہ صاحب نے عسکری عدالت کے فیصلے کے مطابق سرعام دس کوڑے کھائے اور اف تک نہ کی ایک طرف قواعد کی خلاف ورزی اور دوسری طرف جماعت کے نظم وضبط کا وقار بلند رکھنے کا یہ مظاہرہ طبیعت کی یہ دونوں انتہا ئےں علامہ صاحب میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں۔خاکسار تحریک اور اس کے لیڈر کے بعض اصولوںکے بارے میںعام لوگوں کے معلومات نامکمل تھیں اور جب کبھی ان اصولوںکاخاکسار لیڈر کی روزہ مرہ زندگی میں مظاہرہ ہوتا تحریک سے باہر کے لوگوں کے لئے دلچسپی کا موجب ہوتا مثلًا تحریک کا ایک اصول یہ تھا کہ ہر کارکن ذاتی اور جماعتی سرگرمیوں کا خرچہ اپنی جیب سے پورا کرے اور اسی لئے علامہ صاحب اور ان کے رفقاءکی جزرسی کے بہت سے قصے مشہور ہیں۔علامہ مشرقی ؒصاحب سکندر حیات سے ملنے گئے توسرسکندر حیات نے کافی سے ان کی تواضع کی رخصت ہوتے وقت علامہ صاحب نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ سرسکندر حیات کے سامنے پڑی میز پر چھ پیسے دو آنے بطور قیمت رکھ دیئے سکندر حیات نے ہنستے ہوئے کہا علامہ صاحب اس کافی کی قیمت دو آنے نہیں ہے یہ کولڈ کافی تھی۔ قیمت ہی دینی چاہتے ہیں، تو پوری قیمت دیجئے علامہ صاحب نے کہا یہ کافی میرا انتخاب نہیں تھا ہمارا اصول ہے کہ دوسرے کی کمائی اپنے پیٹ میں نہیں جانی چاہئے میں کھانے کے ایک آئٹم کی قیمت دو آنے سے زیادہ نہیں دے سکتا اور نہ ہی ہم ایسی چیز کھاتے ہیں جس کی قیمت دو آنے سے بڑھ جائے علامہ صاحب بعض روایات کے مطابق ایک خوش خوراک شخص تھے۔اس قسم کی ایک شہادت جیل کے حوالے سے دیوان سنگھ مفتون نے بھی دی ہے لیکن ذاتی زندگی میں المشرقی ؒدعوتیں کھانے کھلانے کے عادی نہیں تھے۔یہ بات ان کے جماعتی نظم وضبط کے بھی خلاف تھی۔
      المشرقی ؒنے بلند شہر میں دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کی مہم شروع کی تو خاکساروں کی مالی بے بضاعتی ان کے آڑے آئی ہرکارکن بلند شہر پہنچنے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا تھا تحریک کی قیادت نے ایک عجیب وغریب راہ کارکنوں کوبلند شہر پہنچانے کی یہ سوچی کہ ایک موٹر سائیکل پر تین افرا دکے بیٹھنے کا انتظام کیا گیاپھر موٹر سائیکل پیچھے رسیوں کے ساتھ تین سائیکل باندھ دیئے جاتے ان سائیکلوں پر بھی ایک ایک سواری بیٹھ جاتی،اور یوں چھ چھ رضاکاروں پر مشتمل قافلے بلند شہر پہنچ کر گرفتاریاں پیش کرنے لگے اس تحریک کے دنوں میں یہ دیکھا گیا کہ مےاںبشیر احمدصدیقی مرحوم ہر گرفتار ہونے والے خاکسار رضاکار کے گھر آٹا دال اور دوسری اشیائے ضرورت پہنچاتے رہتے۔اس طرح جیل بھگتنے والے رضاکاروں کے حوصلے بلند رہتے اور شاید اسی لئے آج تک کوئی خاکسار پولیس یا جیل حکام سے معافی مانگ کر رہا نہیں ہوا۔خاکسار تحریک کے کارکنوں پر ایک الزام یہ تھا کہ وہ فاشسٹ اور تشدد پسند ہیں لیکن لکھنﺅ میں”مدح صحابہ تحریک“کے ایام میں خاکساروں نے مخالف گروہوں میں تصادم کو روکنے کے لئے عدم تشدد کی جن روایات کو جنم دیا گیا وہ گاندھی کے پیروکاروں کے بس کی بات بھی نہیں تھی بلکہ یہ تصادم یوپی کی کانگرس حکومت نے خود کرایاتھا تاکہ مسلمان کا خون مسلمانوں کے ہاتھوں گرے۔خاکساروں نے تہیہ کر رکھاتھاکہ مدح صحابہ والوں اور تبریٰ کہنے والوں کو کسی صورت ایک دوسرے کے اتنا قریب نہیں آنے دیں گے کہ تصادم ہو جائے اور کشت وخون ہو اس کشت وخون کو روکنے کے لئے خاکسار خود بھی تشدد سے کام نہیں لینا چاہتے تھے اور نہ ہی جانبداری کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے چنانچہ خاکساروں نے اپنے ہاتھ پشت پر بند ھوائے اور دونوں مشتعل گروہوں کے درمیان کھڑے ہوگئے گروہ آپس میں ٹکرائے اور طرفین کے تشدد کا نشانہ خاکسار بنتے رہے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف تشدد سے روکنے کے اس جہاد میں ۱۷خاکسار جاں بحق ہو گئے کئی خاکساروں نے جیلیں آباد کیں۔انہی ایام میں علامہ مشرقی ؒنے مسلمان قوم کا صحیح مقام متعین کرنے کے لئے اپنے عالمگیر فلسفے کا اعلان کیا کہ زمین پر بادشاہت کا تعلق خون بہانے سے ہے اکثریت سے نہیں اسی فلسفے کے تحت آپ ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت کا حق ثابت کرتے تھے ۔
      ڈاکٹر اسماعیل نامی سالار ادارہ مرکزی ماڈل ٹاﺅن لاہور نے ہفت روزہ” الاصلاح“، لاہور کے۲۶ اگست ۱۹۶۶ءکے شمارے میں علامہ صاحب کے جماعتی ڈسپلن کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے موچی دروازہ میں خاکساروں کا کیمپ تھا اور میں اس کا سالار اول تھا میں نے حکم دیا کہ کیمپ کے ایام میں تین دن تک کوئی شخص چنے اور گڑ کے سوا اور کوئی چیز نہ کھائے کیمپ کے دوسرے دن مجھے ایک خاکسارنے اطلاع دی کہ علامہ صاحب کیمپ میں بیٹھے مچھلی پنیر مکھن کھا رہے ہیں۔میں وہاںگےا اور کہا کہ آپ کو کس نے اجازت دی کہ آپ کیمپ میں ایسی چیزیں کھائیں انہوں نے کہا کہ یہ میری چیزیں ہیں۔میں نے خاکسار کو حکم دیا کہ ان چیزوں کو اٹھا کر باہر نالی میں پھینک دو خاکسار اٹھا کر نالی میں پھینک آیا میں نے علامہ صاحب کو کہا کہ آپ نے خلاف ورزی کی ہے۔اس لئے سزا کے طور پر کیمپ کے گیٹ پر تا حکم ثانی پہرہ دیتے رہیں علامہ مشرقی ؒصاحب نے بیلچہ اٹھایا اور دھوپ میں پہرہ دیتے رہے ایک گھنٹہ کے بعد میںنے انہیں برخاست کر دیا اس قسم کا ایک اور واقعہ ہے شاہدرہ میں خاکساروں کا کیمپ تھا شام کے 5 بجے تھے میں اور علامہ صاحب اچھرہ سے ساڑھے تین بجے نکلے تانگہ پر سوار ہو کر مزنگ تک آئے شاہدرہ کے لئے تانگے والا ایک روپیہ طلب کر رہا تھا۔لیکن علامہ صاحب بضد تھے کہ آٹھ آنے دیئے جائیں۔کئی تانگے والے آئے اور چلے گئے دیر ہو گئی تو علامہ صاحب پیدل ہی چل پڑے،انار کلی تک پیدل چل کر پہنچے۔سخت دھوپ تھی انار کلی سے ایک تانگہ مل گیا جو ۸آنے پر راضی ہو گیا شاہدرہ تک پہنچتے پہنچتے ۵بج گئے ہم پرےڈمیں کھڑے ہو گئے کیونکہ تحریک کا یہ اصول تھا کہ افسر بالا جب کسی محلہ میں پریڈ میں شامل ہو تو وہ سالار کے ماتحت ہو گا سید شریف شاہ نے حکم دیا کہ دو قدم آگے ۔۔۔۔ہم دو قدم آگے نکل آئے سالار نے کہا کہ دیر سے کیوں آئے ہو۔میں نے کہا یہ علامہ صاحب کی کفایت شعاری کا قصور ہے علامہ صاحب نے کہا میں نے تمہےں کب روکا تھا تم چلے آتے آخر سالار نے ہم دونوں کو پانچ پانچ دروں کی سزا دی علامہ مشرقی ؒصاحب حکم منواتے تھے تو خود بھی اس کے عامل تھے وہ ان لیڈروں میں سے نہیں تھے جو دوسروں سے کام لیتے ہیں لیکن خود نہیں کرتے۔تحریک میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے کبھی دھوپ میں قدم نہیں رکھا تھا اور وہی لوگ گلی کو چوں میں چپ راست کرتے پھرتے تھے۔لوگوں کا پانی بھرتے اور ان کی گندی نالیاں صاف کرتے۔غریب اور اپاہج لوگوں کا سامان اٹھاتے گویا علامہ مشرقی ؒسے لے کر عام خاکسار تک نے اپنی ہستی کو مٹا دیا تھا۔علامہ صاحب نے خود بھی فرمایا۔
      ”میری تمام زندگی پچپن سے تنگی تکلیف اور عسر میں کٹی لیکن نہایت آسودہ حال گھر میں پیدا ہو کر بھی تکلیف اور رنج محنت اور کلفت کا شیدائی رہا دنیا کا کوئی آرام نہیں جو خدائے عزوجل نے مجھے میسر نہ کیا ہو لیکن اس آرام کو پہیم اور ضد سے چھوڑتا رہا کوئی عیش نہیں جس پر میری دسترس نہیں ہو سکتی تھی لےکن اس عیش سے یکسر رو گرداں رہا کوئی مرتبہ اور دنیاوی جاہ نہیں جو مجھے چشم زدن میں نہ مل سکتا تھا لیکن اس کو جان بوجھ کر پاﺅں سے ٹھکراتا رہا مجھے دکھ اور تکلیف میں خدا سے قرب کا یقین رہا ہے اور اب رنج اٹھا اٹھا کر اس سے قریب تر ہونا چاہتا ہوں“۔
       



    Your message has been successfully submitted and would be delivered to recipients shortly.